حدیث نمبر: 464
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ، فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، أَثْقَلُ شَيْءٍ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيَّ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو اس کی نرمی کا حصہ دیا گیا تو اسے اس کی خیر کا وافر حصہ عطا کیا گیا۔ اور جسے نرمی سے محروم کیا گیا اسے خیر سے محروم کر دیا گیا۔ قیامت کے روز مومن کے ترازو میں سب سے زیادہ وزنی عمل حسنِ اخلاق ہو گا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ فاحش اور بدزبان سے بغض رکھتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
نرمی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ حسن اخلاق کے لیے نرمی شرط لازم ہے۔ سخت مزاج آدمی اچھے اخلاق کا مالک کم ہی ہوتا ہے۔ اس لیے وہ خیر سے محروم رہتا ہے۔ مزید تفصیلات گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہیں۔
نرمی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ حسن اخلاق کے لیے نرمی شرط لازم ہے۔ سخت مزاج آدمی اچھے اخلاق کا مالک کم ہی ہوتا ہے۔ اس لیے وہ خیر سے محروم رہتا ہے۔ مزید تفصیلات گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 464 سے ماخوذ ہے۔