حدیث نمبر: 454
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ‏:‏ دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ نَعُودُهُ، وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ، فَقَالَ‏:‏ إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ سَلَفُوا مَضَوْا وَلَمْ تُنْقِصْهُمُ الدُّنْيَا، وَإِنَّا أَصَبْنَا مَا لاَ نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلاَّ التُّرَابَ، وَلَوْلاَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے ہاں گئے جبکہ انہوں نے اپنے جسم پر سات داغ لگوائے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ہمارے جو دوست ہم سے پہلے تھے، وہ دنیا سے چلے گئے اور دنیا نے ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ کی۔ اور ہم ہیں کہ ہمیں اس قدر وافر مال ملا ہے کہ مٹی کے سوا ہمیں اس کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں موت کی دعا کر لیتا۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السرف فى البناء / حدیث: 454
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب المرضيٰ ، باب تمنى المريض الموت : 5672 و مسلم : 2681 ، مختصرًا و الترمذي : 2483 و النسائي : 1823 و ابن ماجه : 4163 - انظر صحيح أبى داؤد : 2721»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)سیدنا خباب رضی اللہ عنہ پہلے پہل اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے اسلام کے لیے اس قدر تکلیفیں اٹھائیں کہ ان کی کمر پر گوشت نہیں تھا۔ دشمن کے کوئلوں پر لٹانے کی وجہ سے سارا گوشت جل گیا تھا۔ آخر عمر میں شدید بیمار ہوگئے اور پیٹ میں بہت سے داغ لگوانے پڑے۔
(۲) قرون اولیٰ میں مسلمانوں کا طریقہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے تیمار داری کے لیے آنے والوں کو دنیا سے بے رغبتی کی نصیحت کی اور تنبیہ کی کہ عمارتوں میں مقابلہ بازی سے اجتناب کرو اور دنیا پر فریفتہ ہونے کی بجائے آخرت کی طرف توجہ دو۔
(۳) شدید بیماری یا مشکلات کی وجہ سے موت کی دعا کرنا ناجائز ہے، تاہم دل میں تمنا پیدا ہونا دوسری چیز ہے جس پر مواخذہ نہیں۔ اگر موت یقینی ہو تو پھر اللہ سے ملاقات کا شوق پیدا ہونا ایمان کامل کی علامت ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 454 سے ماخوذ ہے۔