الادب المفرد
كتاب السرف فى البناء— كتاب السرف فى البناء
بَابُ التَّطَاوُلِ فِي الْبُنْيَانِ باب: تعمیرات میں مقابلہ بازی کی مذمت
حدیث نمبر: 452
وَبِالسَّنَدِ عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الرُّومِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ طَلْقٍ فَقُلْتُ: مَا أَقْصَرَ سَقْفَ بَيْتِكِ هَذَا؟ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ: أَنْ لاَ تُطِيلُوا بِنَاءَكُمْ، فَإِنَّهُ مِنْ شَرِّ أَيَّامِكُمْ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبداللہ رومی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں ام طلق رحمہا اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے کہا: آپ کے اس گھر کی چھت کتنی نیچی ہے؟ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے وزراء کو لکھا کہ لمبی چوڑی عمارتیں مت بنانا کیونکہ یہ تمہارے بدترین دن ہوں گے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 452 سے ماخوذ ہے۔