الادب المفرد
كتاب السرف فى البناء— كتاب السرف فى البناء
بَابُ التَّطَاوُلِ فِي الْبُنْيَانِ باب: تعمیرات میں مقابلہ بازی کی مذمت
حدیث نمبر: 450
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: كُنْتُ أَدْخُلُ بُيُوتَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خِلاَفَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَأَتَنَاوَلُ سُقُفَهَا بِيَدِي.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں میں جاتا تھا تو بآسانی اپنے ہاتھ سے چھت کو چھو لیتا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے گھر فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے کے باوجود بھی سادہ تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کافي فروانی ہوچکی تھی لیکن اس کے باوجود وہ گھر شان و شوکت سے نہیں بنائے گئے جو اس بات کی دلیل ہے کہ لمبی چوڑی عمارتیں بنانا سلف کا مشغلہ نہیں تھا۔
مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے گھر فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے کے باوجود بھی سادہ تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کافي فروانی ہوچکی تھی لیکن اس کے باوجود وہ گھر شان و شوکت سے نہیں بنائے گئے جو اس بات کی دلیل ہے کہ لمبی چوڑی عمارتیں بنانا سلف کا مشغلہ نہیں تھا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 450 سے ماخوذ ہے۔