الادب المفرد
كتاب الوالدين— كتاب الوالدين
بَابُ: هَلْ يُكَنِّي أَبَاهُ؟ باب: کیا اپنے باپ کو کنیت سے پکارا جاسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 45
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَحْيَى بْنِ نُبَاتَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَقَال لَهُ سَالِمٌ: الصَّلاَةَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
شہر بن حوشب سے مروی ہے، ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جا رہے تھے تو ان سے (ان کے بیٹے) سالم نے کہا: ابو عبدالرحمن! نماز کا وقت ہو گیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ روایت شہر بن حوشب کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اس لیے اس سے ترجمۃ الباب ثابت نہیں ہوتا، تاہم مسئلے کی نوعیت یہی ہے کہ بیٹا باپ کو کنیت کے ساتھ بلا سکتا ہے جیسا کہ آئندہ اثر سے ظاہر ہوتا ہے۔
یہ روایت شہر بن حوشب کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اس لیے اس سے ترجمۃ الباب ثابت نہیں ہوتا، تاہم مسئلے کی نوعیت یہی ہے کہ بیٹا باپ کو کنیت کے ساتھ بلا سکتا ہے جیسا کہ آئندہ اثر سے ظاہر ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 45 سے ماخوذ ہے۔