حدیث نمبر: 449
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبُنْيَانِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ لوگ عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ بازی کریں۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السرف فى البناء / حدیث: 449
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الفتن : 7121 - انظر الإرواء : 3/32/1»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)وقت کے تقاضوں کے مطابق ضرورت کے لیے عمارت بنانا جائز ہے لیکن اس میں اسراف اور ایک دوسرے سے مقابلہ ناجائز ہے۔ سر چھپانے کے لیے اچھا مکان بنانا قابل مذمت نہیں۔ مذموم بے جا محلات اور کوٹھیاں ہیں، جیسے لوگ ہر بڑے شہر میں کوٹھی بنانا قابل فخر سمجھتے ہیں۔ مٹی پر پیسہ ضائع کرنے کے بجائے اسے کسی نیکی کے مصرف میں لانا چاہیے۔
(۲) حدیث جبرائیل میں بھی عمارتوں میں مقابلہ بازی کو قیامت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ گویا یہ وبا عام ہو جائے گی۔ آج اگر ہم اپنے آس پاس نظر دوڑائیں تو یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 449 سے ماخوذ ہے۔