حدیث نمبر: 443
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلاَئِيِّ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ‏:‏ ‏ ﴿وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يَخْلُفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ‏﴾ [سبأ: 39]، قَالَ‏:‏ فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ، ولا تَقْتِيرٍ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد باری تعالیٰ: «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» [سبأ: 39] ”اور تم جو چیز بھی خرچ کرو وہ اس کا بدل دے گا اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔“ کے بارے میں فرمایا: اس کا مطلب ہے فضول خرچی نہ ہو اور نہ ہی بخل ہو۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السرف فى البناء / حدیث: 443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه لوين : 10 و الصوري فى الفوائد : 20 و البيهقي فى شعب : 6129»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں بھی میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ پہلے دے اور پھر مانگتا پھرے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((خَیْرُ الصَّدَقَةِ مَا کَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًی))
’’بہترین صدقہ وہ ہے جس کے کرنے کے بعد بھی انسان مالدار رہے۔‘‘
(۲) اسی طرح بخل سے بھی کام نہیں لینا چاہیے کہ جہاں خرچ کرنا ضروری ہو انسان وہاں بھی خرچ نہ کرے اور مال کی حرص اور لالچ فرائض پر غالب آجائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 443 سے ماخوذ ہے۔