حدیث نمبر: 441
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم برے فیصلے اور دشمنوں کے ہنسنے سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السباب / حدیث: 441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الدعوات ، باب التعوذ من جهد البلاء : 6347 و مسلم : 7052 و النسائي : 5491 - انظر الصحيحة : 1541»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)برے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان کو برا لگے اور اسے پریشان کر دے۔ وہ فیصلہ دین کے بارے میں ہو یا دنیا کے بارے میں یا اہل و عیال کے بارے میں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے اور تقدیر پر ایمان کے منافي نہیں ہے۔ یاد رہے کہ شر اور برائی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں ہے، یہ بندوں کی نسبت سے شر ہے۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ تقدیر کے فیصلے کو کیسے ٹالا جاسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دعا کرنا اور استعاذہ طلب کرنا بھی تقدیر کا حصہ ہوگا اور اس کا مقصد بندے کا اپنے بے بس ہونے کا اظہار کرنا ہے۔
(۲) دشمنوں کے ہنسنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی ایسی حالت سے دو چار ہو کہ دشمن اسے دیکھ کر خوش ہو۔ ایسی حالت سے دو چار ہونے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔ انسان مصیبت سے نفرت کرتا ہے لیکن ایسی تکلیف اس کے لیے نہایت اذیت ناک ہوتی ہے جس سے اس کے مخالفین بغلیں بجائیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 441 سے ماخوذ ہے۔