الادب المفرد
كتاب السباب— كتاب السباب
بَابُ مَنْ قَالَ لأَخِيهِ: يَا كَافِرُ باب: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو اے کافر کہہ کر مخاطب کیا
حدیث نمبر: 439
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”أَيُّمَا رَجُلٌ قَالَ لأَخِيهِ: كَافِرٌ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو یقیناً ان دونوں میں سے ایک اس کے ساتھ لوٹا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جسے کافر کہا جارہا ہے اگر واقعی وہ ایسا ہے تو ٹھیک ورنہ اس کا وبال کہنے والے پر پڑے گا جیسے رافضی حضرات صحابہ کرام کے بارے میں کہتے ہیں۔ اب صحابہ کرام تو بلا شک و شبہ کے ایمان دار تھے اس لیے کہنے والے کافر ٹھہرے۔
مطلب یہ ہے کہ جسے کافر کہا جارہا ہے اگر واقعی وہ ایسا ہے تو ٹھیک ورنہ اس کا وبال کہنے والے پر پڑے گا جیسے رافضی حضرات صحابہ کرام کے بارے میں کہتے ہیں۔ اب صحابہ کرام تو بلا شک و شبہ کے ایمان دار تھے اس لیے کہنے والے کافر ٹھہرے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 439 سے ماخوذ ہے۔