حدیث نمبر: 435
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ‏:‏ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ إِلاَّ بَيْنَهُمَا مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ سِتْرٌ، فَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ كَلِمَةَ هَجْرٍ فَقَدْ خَرَقَ سِتْرَ اللهِ، وَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ‏:‏ أَنْتَ كَافِرٌ، فَقَدْ كَفَرَ أَحَدُهُمَا‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہر دو مسلمانوں کے درمیان اللہ کی طرف سے پردہ ہے۔ جب ان میں سے کوئی بدکلامی کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے پردے کو پھاڑ دیتا ہے۔ اور جب ان میں سے ایک دوسرے کو کہتا ہے کہ تو کافر ہے تو ان میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السباب / حدیث: 435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أخرجه الطبراني فى الكبير : 224/10 و البيهقي فى شعب الإيمان : 5017»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ کہنے والا اگر سچا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔ اس مفہوم والی صحیح حدیث اور اس کے فوائد کے لیے حدیث نمبر:۴۳۲ دیکھیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 435 سے ماخوذ ہے۔