الادب المفرد
كتاب السباب— كتاب السباب
بَابُ سِبَابِ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ باب: مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے
حدیث نمبر: 432
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْمَُرَ، أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلاً بِالْفُسُوقِ، وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ، إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب کوئی آدمی کسی آدمی کو کافر یا فاسق کہتا ہے اور وہ ایسا نہیں ہوتا تو یہ بات خود اس پر لوٹ آتی ہے (اور وہ ایسا ہو جاتا ہے)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کافر کو کافر کہنے میں کوئی حرج نہیں، تاہم کسی مسلمان کو کافر یا فاسق کہنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے خدشہ ہے کہ خود انسان ایسا ہو جائے، البتہ اگر وہ واقعی ایسا ہے تو دوسری بات ہے۔ اسی طرح اگر کوئی کسی کی تنقیص کرنے کے لیے یا عار دلانے کے لیے ایسا کرتا ہے تو بھی گناہ گار ہوگا۔ اس لیے مسلمان پر ایسا فتویٰ لگانے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔
کافر کو کافر کہنے میں کوئی حرج نہیں، تاہم کسی مسلمان کو کافر یا فاسق کہنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے خدشہ ہے کہ خود انسان ایسا ہو جائے، البتہ اگر وہ واقعی ایسا ہے تو دوسری بات ہے۔ اسی طرح اگر کوئی کسی کی تنقیص کرنے کے لیے یا عار دلانے کے لیے ایسا کرتا ہے تو بھی گناہ گار ہوگا۔ اس لیے مسلمان پر ایسا فتویٰ لگانے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 432 سے ماخوذ ہے۔