حدیث نمبر: 431
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: ”مسلمان کو گالی دینا گناہ، اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السباب / حدیث: 431
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الإيمان ، باب خوف المومن من أن يحبط عمله ........ : 48 ، 6044 ، 7076 و مسلم : 64 و النسائي : 4111 و الترمذي : 1983 و ابن ماجه : 69»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اگر اس کی عزت کو اچھالا جائے تو اس کی شدت اور بڑھ جاتی ہے۔ ایک حدیث میں اسے سب سے بڑا سود کہا گیا ہے جبکہ سود کے کم ترین درجے کا گناہ اپنی ماں سے منہ کالا کرنے کے مترادف ہے۔
(۲) مسلمان سے قتال کو اگر کوئی شخص حلال سمجھے تو واقعی کافر ہے، تاہم اگر دونوں اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہوں تو الگ بات ہے۔ یا پھر کفر سے مبالغہ مراد ہے کہ مسلمان سے لڑائی سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ کفر کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 431 سے ماخوذ ہے۔