الادب المفرد
كتاب السباب— كتاب السباب
بَابُ الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ باب: دو باہم گالم گلوچ کرنے والے شیطان ہیں جو بے ہودہ گوئی اور جھوٹ بکتے ہیں
حدیث نمبر: 428
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لاَ يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَلاَ يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ“، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً سَبَّنِي فِي مَلَأٍ هُمْ أَنْقُصُ مِنِّي، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ، هَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ جُنَاحٌ؟ قَالَ: ”الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تواضع اور عجز و انکساری اختیار کرو، اور کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے، اور نہ ہی ایک دوسرے پر فخر کرے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھ سے کم مرتبہ کوئی شخص مجھے گالی دے اور میں اسے جواب دوں تو کیا مجھے گناہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باہم گالم گلوچ کرنے والے دونوں شیطان ہیں جو بےہودہ گوئی کرتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)لڑائی کے وقت گالیاں بکنا اگر کسی کی عادت بن جائے تویہ منافق ہونے کی نشانی ہے اس لیے ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مخالف اگر کم تر بھی ہو تب بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دینے سے بچنا چاہیے کیونکہ اس طرح انسان بہتان بازی اور دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے نہ چاہتے ہوئے بھی بسا اوقات جھوٹ بول جاتا ہے۔
(۲) لڑائی کے وقت شیطان اپنا کام خوب دکھاتا ہے۔ غصہ دلا کر انسان کو گالم گلوچ پر آمادہ کرتا ہے۔ اس لیے لڑائی جھگڑے کے موقع پر أعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم پڑھنا چاہیے۔ (بخاري:۶۰۴۸)
(۱)لڑائی کے وقت گالیاں بکنا اگر کسی کی عادت بن جائے تویہ منافق ہونے کی نشانی ہے اس لیے ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مخالف اگر کم تر بھی ہو تب بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دینے سے بچنا چاہیے کیونکہ اس طرح انسان بہتان بازی اور دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے نہ چاہتے ہوئے بھی بسا اوقات جھوٹ بول جاتا ہے۔
(۲) لڑائی کے وقت شیطان اپنا کام خوب دکھاتا ہے۔ غصہ دلا کر انسان کو گالم گلوچ پر آمادہ کرتا ہے۔ اس لیے لڑائی جھگڑے کے موقع پر أعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم پڑھنا چاہیے۔ (بخاري:۶۰۴۸)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 428 سے ماخوذ ہے۔