حدیث نمبر: 425
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”أَتَدْرُونَ مَا الْعَضْهُ‏؟“‏ قَالُوا‏:‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ‏:‏ ”نَقْلُ الْحَدِيثِ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ إِلَى بَعْضٍ، لِيُفْسِدُوا بَيْنَهُمْ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے کہ چغل خوری اور کاٹ دینے والی چیز کیا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فساد برپا کرنے کے لیے لوگوں کی باتیں ایک دوسرے کو بتانا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب السباب / حدیث: 425
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه الطحاوي فى مشكل الآثار : 170/6 و البيهقي فى السنن الكبرىٰ : 242/10 - انظر الصحيحة : 845»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)چغل خوری نہایت خطرناک گناہ ہے جو انسان کے دین کو تباہ کرکے اسے جنت سے محروم کر دیتا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ((لَا یدخل الجنة نَمَّامٌ))(صحیح مسلم، الایمان، حدیث:۱۰۵)
’’چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘
اس سے رشتہ داریاں ٹوٹ جاتی ہے اور انتشار و گروہ بندیاں جنم لیتی ہے۔
(۲) فساد پھیلانے کی نیت سے کسی کی بات آگے بیان کرنا تاکہ لوگ باہم لڑیں، ناجائز اور حرام ہے۔ لگائی بجھائی کرنے والا انسان کسی کی نظر میں باعزت نہیں ہوتا، تاہم جائز بات جو اصلاح کی خاطر ہو، وہ نہ صرف جائز بلکہ باعث اجر ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 425 سے ماخوذ ہے۔