الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الْمَكْرِ وَالْخَدِيعَةِ باب: مکر و فریب اور دھوکا دہی کی مذمت
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْبَاطِ الْحَارِثِيُّ وَاسْمُهُ بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خَبٌّ لَئِيمٌ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن (دنیا کے بارے میں) بھولا بھالا اور کریم النفس ہوتا ہے جبکہ کافر اور منافق دھوکے باز، خبیث اور کمینہ ہوتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مومن کا ظاہر اور باطن ایک ہوتا ہے۔ وہ جو زبان سے بولتا ہے اس کا دل بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ دنیا کے معاملات میں زیادہ باریک بینی کی طرف نہیں جاتا اور نہ لوگوں کے اندرونی حالات سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ حسن ظن اور اچھا گمان کرتے ہوئے لوگوں پر اعتبار کرتا ہے۔ یہ اس کی جہالت کی وجہ سے نہیں بلکہ دل صاف ہونے اور ذہنی پاکیزگی کی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اپنی طرح سمجھتا ہے لیکن آخرت کے معاملے میں وہ باہمت اور بہت ہوشیار ہوتا ہے۔ اپنی آخرت کی بہتری کے لیے چاک و چوبند رہتا ہے۔ کاہلی اور سستی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ ایک حدیث میں ایسے لوگوں کو سب سے زیادہ دانا اور سمجھ دار کہا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((أفْضَلُ الْمُؤْمِنِینَ أحْسَنُهُمْ خُلُقًا وأکْیَسُهُمْ أکْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْرًا وَأحَسَنُهُمْ لَهُ اسْتِعْدَادًا اَولئٰٓك الاکْیَاس۔))(الصحیحة للالباني، حدیث:۱۳۸۴)
’’مومنوں میں سے سب سے افضل وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو اور ان میں سے سب سے دانا وہ ہے جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا اور اس کی سب سے اچھی تیاری کرنے والا ہو۔ یہی لوگ حقیقت میں سمجھ دار ہیں۔‘‘
(۲) منافق اور کافر کا ظاہر اور باطن مختلف ہوتا ہے۔ وہ نہایت چالاکی سے لوگوں کی ٹوہ لگاتا ہے اور فساد برپا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے ساتھی کی بھی کسی لغزش سے درگزر نہیں کرتا چہ جائیکہ دشمن کو معاف کرے۔ وہ اس کے لیے نہایت گھٹیا حرکت بھی کرسکتا ہے جبکہ آخرت کے معاملے میں نہایت کاہل اور بے کار ہوتا ہے۔
(۳) فاجر سے مراد یہاں گناہ گار مسلمان نہیں بلکہ کافر اور منافق مراد ہے۔
(۱)مومن کا ظاہر اور باطن ایک ہوتا ہے۔ وہ جو زبان سے بولتا ہے اس کا دل بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ دنیا کے معاملات میں زیادہ باریک بینی کی طرف نہیں جاتا اور نہ لوگوں کے اندرونی حالات سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ حسن ظن اور اچھا گمان کرتے ہوئے لوگوں پر اعتبار کرتا ہے۔ یہ اس کی جہالت کی وجہ سے نہیں بلکہ دل صاف ہونے اور ذہنی پاکیزگی کی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اپنی طرح سمجھتا ہے لیکن آخرت کے معاملے میں وہ باہمت اور بہت ہوشیار ہوتا ہے۔ اپنی آخرت کی بہتری کے لیے چاک و چوبند رہتا ہے۔ کاہلی اور سستی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ ایک حدیث میں ایسے لوگوں کو سب سے زیادہ دانا اور سمجھ دار کہا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((أفْضَلُ الْمُؤْمِنِینَ أحْسَنُهُمْ خُلُقًا وأکْیَسُهُمْ أکْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْرًا وَأحَسَنُهُمْ لَهُ اسْتِعْدَادًا اَولئٰٓك الاکْیَاس۔))(الصحیحة للالباني، حدیث:۱۳۸۴)
’’مومنوں میں سے سب سے افضل وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو اور ان میں سے سب سے دانا وہ ہے جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا اور اس کی سب سے اچھی تیاری کرنے والا ہو۔ یہی لوگ حقیقت میں سمجھ دار ہیں۔‘‘
(۲) منافق اور کافر کا ظاہر اور باطن مختلف ہوتا ہے۔ وہ نہایت چالاکی سے لوگوں کی ٹوہ لگاتا ہے اور فساد برپا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے ساتھی کی بھی کسی لغزش سے درگزر نہیں کرتا چہ جائیکہ دشمن کو معاف کرے۔ وہ اس کے لیے نہایت گھٹیا حرکت بھی کرسکتا ہے جبکہ آخرت کے معاملے میں نہایت کاہل اور بے کار ہوتا ہے۔
(۳) فاجر سے مراد یہاں گناہ گار مسلمان نہیں بلکہ کافر اور منافق مراد ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 418 سے ماخوذ ہے۔