الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ وَإِنْ لَمْ يَسْتَشِرْهُ باب: اگر کوئی بھائی مشورہ نہ مانگے تب بھی مشورہ دینا
حدیث نمبر: 416
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، أَنَّ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ وَهْبٌ أَدْرَكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى رَاعِيًا وَغَنَمًا فِي مَكَانٍ قَبِيحٍ وَرَأَى مَكَانًا أَمْثَلَ مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ، يَا رَاعِي، حَوِّلْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”كُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک چرواہا اور بکریاں ایک نامناسب جگہ میں دیکھیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے بہتر اور مناسب جگہ دیکھی تو فرمایا: افسوس تجھ پر اے چرواہے! ان بکریوں کو یہاں سے ہٹا لو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ہر نگراں سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مسلمان کو دوسرے کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔ اگر وہ سمجھے کہ اس کے مسلمان بھائی کا نقصان ہو رہا ہے تو اسے چاہیے کہ اسے آگاہ کرے اور مشورہ دے خواہ وہ مشورہ طلب نہ بھی کرے۔
مسلمان کو دوسرے کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔ اگر وہ سمجھے کہ اس کے مسلمان بھائی کا نقصان ہو رہا ہے تو اسے چاہیے کہ اسے آگاہ کرے اور مشورہ دے خواہ وہ مشورہ طلب نہ بھی کرے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 416 سے ماخوذ ہے۔