حدیث نمبر: 415
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، كَانَ عُمَرُ يَقُولُ لِبَنِيهِ: إِذَا أَصْبَحْتُمْ فَتَبَدَّدُوا، وَلاَ تَجْتَمِعُوا فِي دَارٍ وَاحِدَةٍ، فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَقَاطَعُوا، أَوْ يَكُونَ بَيْنَكُمْ شَرٌّ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے بچوں سے فرمایا کرتے تھے: جب تم صبح کرو تو بکھر جایا کرو اور ایک ہی گھر میں اکٹھے نہ رہو۔ مجھے تمہارے بارے میں قطع تعلق کا ڈر ہے، یا تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہ ہو جائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 415 سے ماخوذ ہے۔