حدیث نمبر: 408
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں بغض نہ رکھو، نہ ایک دوسرے سے حسد کرو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 408
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الأدب : 6065 ، 5143 و مسلم : 2563 - انظر غاية المرام : 404»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)امام ابن رجب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ دینی مسائل میں کثرت اختلاف کی وجہ سے لوگوں میں بغض و عداوت نے بھی شدت اختیار کرلی۔ ہر شخص یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اللہ کے لیے بغض اور دشمنی رکھتا ہے۔ کبھی تو ایسے کرنے والا شخص واقعی معذور ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر عدم علم کی بنا پر وہ محض خواہش نفس کی پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے باہم بغض و عناد اور دشمنی سے حتی الوسع بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (جامع العلوم والحکم:۲؍۲۶۵)
(۲) انتہا درجے کی عداوت کو شحناء سے تعبیر کرتے ہیں جس میں کینے اور بغض سے دل بھر جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 408 سے ماخوذ ہے۔