حدیث نمبر: 407
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُعَاذَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ هِشَامَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ‏:‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُصَارِمَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، فَإِنَّهُمَا مَا صَارَمَا فَوْقَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صِرَامِهِمَا، وَإِنَّ أَوَّلَهُمَا فَيْئًا يَكُونُ كَفَّارَةً لَهُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ، وَإِنْ هُمَا مَاتَا عَلَى صِرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلاَ الْجَنَّةَ جَمِيعًا‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین رات سے زیادہ قطع تعلق کرے۔ بلاشبہ جب تک وہ تین رات سے زیادہ قطع تعلق رکھتے ہیں، وہ دونوں حق سے ہٹے ہوتے ہیں۔ جو ان میں سے پہلے حق کی طرف لوٹے، یعنی تعلق جوڑے تو اس کی یہ سبقت اس کی سابقہ قطع تعلقی کا کفارہ بن جائے گی۔ اگر وہ دونوں قطع تعلقی کی حالت میں مر گئے تو دونوں ہی جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 407
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : انظر الحديث ، رقم : 402»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
قطع تعلق کبیرہ گناہ ہے، تاہم اگر کوئی شخص پہل کرتے ہوئے اپنے بھائی سے صلح کرلے تو اس کی سابقہ خطاؤں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 407 سے ماخوذ ہے۔