حدیث نمبر: 406
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلامِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔ اس طرح کہ جب دونوں ملیں تو یہ منہ ادھر کرے اور یہ (دوسرا) ادھر کرے۔ اور ان میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
قطع تعلق کبھی ایک طرف سے ہوتا ہے اور کبھی دونوں فریق اس میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ یہ قطع تعلقی کی بدترین صورت ہے۔ سلام میں پہل کرنے والا افضل اور بہتر ہے اور اس کے تین بار سلام کہنے کے بعد دوسرا اگر جواب نہیں دیتا تو وہ سلام کرنے والے کا گناہ بھی اپنے سر لے لیتا ہے۔
قطع تعلق کبھی ایک طرف سے ہوتا ہے اور کبھی دونوں فریق اس میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ یہ قطع تعلقی کی بدترین صورت ہے۔ سلام میں پہل کرنے والا افضل اور بہتر ہے اور اس کے تین بار سلام کہنے کے بعد دوسرا اگر جواب نہیں دیتا تو وہ سلام کرنے والے کا گناہ بھی اپنے سر لے لیتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 406 سے ماخوذ ہے۔