حدیث نمبر: 405
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ أَبِي أَنَسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”هِجْرَةُ الْمُسْلِمِ سَنَةً كَدَمِهِ“، وَفِي الْمَجْلِسِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ، فَقَالاَ: قَدْ سَمِعْنَا هَذَا عَنْهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو ایک سال تک چھوڑنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔“ مجلس میں محمد بن منکدر اور عبداللہ بن ابی عتاب بھی تھے، ان دونوں نے کہا کہ ہم نے بھی ان سے اسی طرح سنا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ جس طرح قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے اسی طرح مسلمان بھائی سے قطع کلامی بھی کبیرہ گناہ ہے جسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ جس طرح قتل کرنے والے کوہر صورت سزا ملتی ہے، بعینہ قطع تعلق کرنے والا بھی سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے اسی طرح مسلمان بھائی سے قطع کلامی بھی کبیرہ گناہ ہے جسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ جس طرح قتل کرنے والے کوہر صورت سزا ملتی ہے، بعینہ قطع تعلق کرنے والا بھی سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 405 سے ماخوذ ہے۔