حدیث نمبر: 403
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنِّي لَأَعْرِفُ غَضَبَكِ وَرِضَاكِ“، قَالَتْ: قُلْتُ: وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: ”إِنَّكِ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ: بَلَى، وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ: لاَ، وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ“، قَالَتْ: قُلْتُ: أَجَلْ، لَسْتُ أُهَاجِرُ إِلا اسْمَكَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے غصے کو اور تمہاری رضا مندی کو پہچانتا ہوں۔“ وہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: کیوں نہیں! رب محمد کی قسم۔ اور جب تم ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں! رب ابراہیم کی قسم؟“ وہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اسی طرح ہے لیکن میں صرف آپ کا نام ہی ترک کرتی ہوں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ غصہ عورتوں کی اس غیرت میں سے ہے جس کے بارے میں انہیں معاف کر دیا کیا گیا ہے۔ ورنہ حضرت عائشہ بغض کی وجہ سے غصہ نہیں کرتی تھیں کیونکہ وہ تو بہت بڑا گناہ ہے۔ اس کی وضاحت انہوں نے خود فرما دی کہ اللہ کے رسول صرف آپ نام لینا ہی چھوڑتی ہوں، آپ کی محبت میرے دل میں تو پیوست ہوتی ہے۔
(۲) خاوند کو بیوی کی نفسیات کا علم ہونا چاہیے اور اس کے رویے کے تغیر و تبدل کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور اس کے ساتھ اسی کے مطابق معاملہ کرنا چاہیے۔
(۱)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ غصہ عورتوں کی اس غیرت میں سے ہے جس کے بارے میں انہیں معاف کر دیا کیا گیا ہے۔ ورنہ حضرت عائشہ بغض کی وجہ سے غصہ نہیں کرتی تھیں کیونکہ وہ تو بہت بڑا گناہ ہے۔ اس کی وضاحت انہوں نے خود فرما دی کہ اللہ کے رسول صرف آپ نام لینا ہی چھوڑتی ہوں، آپ کی محبت میرے دل میں تو پیوست ہوتی ہے۔
(۲) خاوند کو بیوی کی نفسیات کا علم ہونا چاہیے اور اس کے رویے کے تغیر و تبدل کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور اس کے ساتھ اسی کے مطابق معاملہ کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 403 سے ماخوذ ہے۔