حدیث نمبر: 396
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّادٌ الرَّمْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا: فُسَيْلَةُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى ظُلْمٍ؟ قَالَ: ”نَعَمْ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
فسیلہ بنت واثلہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ عصبیت ہے کہ انسان ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم دیگر صحیح دلائل سے یہ ثابت ہے کہ ظالم کی حمایت کرنا جائز نہیں خواہ وہ خاندان کا فرد ہی کیوں نہ ہو۔ اور اس سے محبت ہی کیوں نہ ہو۔
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم دیگر صحیح دلائل سے یہ ثابت ہے کہ ظالم کی حمایت کرنا جائز نہیں خواہ وہ خاندان کا فرد ہی کیوں نہ ہو۔ اور اس سے محبت ہی کیوں نہ ہو۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 396 سے ماخوذ ہے۔