الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ إِذَا كَذَبْتَ لِرَجُلٍ هُوَ لَكَ مُصَدِّقٌ باب: جب تم کسی آدمی سے جھوٹ بولو اور وہ تمہیں سچا سمجھے
حدیث نمبر: 393
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ضُبَارَةَ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ أُسَيْدٍ الْحَضْرَمِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ مُصَدِّقٌ، وَأَنْتَ لَهُ كَاذِبٌ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی بات بیان کرو جس میں وہ تمہیں سچا سمجھ رہا ہو جبکہ تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 393 سے ماخوذ ہے۔