حدیث نمبر: 392
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [الأنفال: 1]، قَالَ: هَذَا تَحْرِيجٌ مِنَ اللهِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ وَأَنْ يُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے ارشادِ باری تعالیٰ: «﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾» [الأنفال: 1] ”اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی معاملات کی اصلاح کرو“ کے بارے میں فرمایا: اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو پابند کر دیا ہے کہ وہ ہر صورت میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور اپنے معاملات کی اصلاح کریں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے پر ظلم اور جھگڑے سے باز رہنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو معرفت اور دین انہیں دیا ہے وہ اس دنیا سے کہیں بہتر ہے جس کے سبب لوگوں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اہل ایمان کے لیے اس کی گنجائش نہیں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے پر ظلم اور جھگڑے سے باز رہنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو معرفت اور دین انہیں دیا ہے وہ اس دنیا سے کہیں بہتر ہے جس کے سبب لوگوں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اہل ایمان کے لیے اس کی گنجائش نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 392 سے ماخوذ ہے۔