حدیث نمبر: 384
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ‏:‏ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى ابْنًا لأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ‏:‏ أَبُو عُمَيْرٍ، وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ، فَقَالَ‏:‏ ”يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ أَوْ، أَيْنَ، النُّغَيْرُ‏؟‏‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر) داخل ہوئے تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے کو (پریشان) دیکھا جسے ابو عمیر کہا جاتا ہے۔ ان کی ایک چڑیا تھی جس کے ساتھ وہ کھیلا کرتے تھے۔ (وہ مر گئی) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو عمیر! تیری چڑیا کا کیا بنا؟ یا وہ کہاں گئی؟“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب رحمة / حدیث: 384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الأدب ، باب الكنية للصبي .............. : 6129 ، 6203 و مسلم : 2150 و أبوداؤد : 4969 و الترمذي : 333 و ابن ماجه : 3720»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ پرندوں کو پالنا جائز ہے، بشرطیکہ ان کی خوراک کا خیال رکھا جائے۔ اور یہ بات ان پر رحمت و شفقت کے منافي نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 384 سے ماخوذ ہے۔