حدیث نمبر: 381
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ الْكِنْدِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ رَحِمَ وَلَوْ ذَبِيحَةً، رَحِمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رحم کیا خواہ کسی ذبیحہ پر ہی ہو، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس پر رحم فرمائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اللہ تعالیٰ نے بعض حیوانات انسان کی خوراک کے طور پر پیدا فرمائے ہیں، انہیں کھانے کے لیے ذبح کرنا جائز ہے۔ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ذبح کرنا ثابت ہے لیکن ذبح کرتے وقت جانور پر شفقت و رحمت کا مظاہرہ کرنے والا اگرچہ اس کی جان ختم کر رہا ہے، تاہم اس کے جذبہ رحم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ روز قیامت اس پر رحم فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے بعض حیوانات انسان کی خوراک کے طور پر پیدا فرمائے ہیں، انہیں کھانے کے لیے ذبح کرنا جائز ہے۔ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ذبح کرنا ثابت ہے لیکن ذبح کرتے وقت جانور پر شفقت و رحمت کا مظاہرہ کرنے والا اگرچہ اس کی جان ختم کر رہا ہے، تاہم اس کے جذبہ رحم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ روز قیامت اس پر رحم فرمائے گا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 381 سے ماخوذ ہے۔