حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يَقُولُ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ‏:‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلا مِنْ شَقِيٍّ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے صادق و مصدوق نبی ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، وہ فرماتے تھے: ”رحمت صرف بدبخت ہی کے دل سے نکالی جاتی ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب رحمة / حدیث: 374
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب ، باب فى الرحمة : 4942 و الترمذي : 3775 - انظر المشكاة : 4968»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کسی بندے کے دل میں رحمت و شفقت کا نہ ہونا اس کی بدبختی کی دلیل ہے اور وہ اس قابل نہیں کہ اس پر رحم کیا جائے۔ ارشاد نبوی ہے: ((اِرْحَمُوْا أهْلَ الْأرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَنْ في السَّمَاءِ))(جامع الترمذي، البر، حدیث:۱۹۲۴)
’’تم اہل زمین پر رحم کرو آسمانوں والی ذات تم پر رحم کرے گی۔‘‘
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 374 سے ماخوذ ہے۔