الادب المفرد
كتاب الصغير— كتاب الصغير
بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لِلصَّغِيرِ : يَا بُنَيَّ باب: چھوٹے بچے کو اپنا بیٹا کہہ کر بلانا
حدیث نمبر: 370
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ لاَ يَرْحَمِ النَّاسَ لاَ يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں کرتا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مطلب یہ ہے کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ نرمی و شفقت اور پیار سے پیش نہیں آتا وہ اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا یا آخرت میں اس پر رحم کرے کیونکہ جو کسی لاچار اور بے بس کا خیال نہیں رکھتا اسے یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ جب وہ لاچار اور بے بس ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے گا۔
(۲) ترجمۃ الباب سے اس کا تعلق یہ ہے کہ یَا بُنَیّ کہہ کر پکارنا ملاطفت و شفقت میں سے ہے۔
(۱)مطلب یہ ہے کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ نرمی و شفقت اور پیار سے پیش نہیں آتا وہ اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا یا آخرت میں اس پر رحم کرے کیونکہ جو کسی لاچار اور بے بس کا خیال نہیں رکھتا اسے یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ جب وہ لاچار اور بے بس ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے گا۔
(۲) ترجمۃ الباب سے اس کا تعلق یہ ہے کہ یَا بُنَیّ کہہ کر پکارنا ملاطفت و شفقت میں سے ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 370 سے ماخوذ ہے۔