حدیث نمبر: 368
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ‏:‏ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ يَنْقَمِعْنَ مِنْهُ، فَيُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ، فَيَلْعَبْنَ مَعِي‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں (نکاح کے بعد) گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی اور میری کئی سہیلیاں بھی میرے ساتھ کھیلتی تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیا کی وجہ سے ادھر ادھر بھاگ جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میرے پاس بھجوا دیتے، چنانچہ وہ پھر میرے ساتھ کھیلنے لگتیں۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الصغير / حدیث: 368
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الأدب ، باب الانبساط إلى الناس : 6130 و مسلم : 2440 و أبوداؤد : 4931 و ابن ماجه : 1982»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حسن معاشرت کا پتا چلتا ہے کہ آپ حسن اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔
(۲) بچیوں کا گڑھیوں کے ساتھ کھیلنا جائز ہے تاکہ ان میں امور خانہ داری کا شعور اجاگر ہو۔ علماء نے بچوں کے کھلونوں میں اس طرح کی جاندار اشیاء کی تصاویر کی اجازت دی ہے جن میں تربیت کا پہلو ہو۔ لیکن کتوں اور دیگر جانوروں کی تصاویر بچوں کے کھیل کے طور پر استعمال کرنا مغرب کی نقالی اور اخلاقی پستی کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے ہر ممکن اجتناب کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 368 سے ماخوذ ہے۔