حدیث نمبر: 367
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْهَيْثَمِ الْعَطَّارُ قَالَ: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَّمٍ قَالَ: سَمَّانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوسُفَ، وَأَقْعَدَنِي عَلَى حِجْرِهِ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام یوسف رکھا، مجھے اپنی گود مبارک میں بٹھایا اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے سر پر بھی پیار اور شفقت سے ہاتھ پھیرنا جائز ہے، خصوصاً عالم دین اور بزرگ وغیرہ کے لیے مستحب ہے کہ وہ بچوں سے اس انداز میں شفقت کرے بلکہ روایات میں چھوٹے بچوں کا بوسہ لینے کا بھی ذکر ہے۔
(۲) اس سے معلوم ہوا کہ کسی نیک آدمی سے نام رکھوانا مستحب ہے۔
(۱)اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کے سر پر بھی پیار اور شفقت سے ہاتھ پھیرنا جائز ہے، خصوصاً عالم دین اور بزرگ وغیرہ کے لیے مستحب ہے کہ وہ بچوں سے اس انداز میں شفقت کرے بلکہ روایات میں چھوٹے بچوں کا بوسہ لینے کا بھی ذکر ہے۔
(۲) اس سے معلوم ہوا کہ کسی نیک آدمی سے نام رکھوانا مستحب ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 367 سے ماخوذ ہے۔