الادب المفرد
كتاب الصغير— كتاب الصغير
بَابُ قُبْلَةِ الرَّجُلِ الْجَارِيَةَ الصَّغِيرَةَ باب: چھوٹی بچی کا بوسہ لینا
حدیث نمبر: 366
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُطَّافٍ، عَنْ حَفْصٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لاَ تَنْظُرَ إِلَى شَعْرِ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِكَ، إِلاَّ أَنْ يَكُونَ أَهْلَكَ أَوْ صَبِيَّةً، فَافْعَلْ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہو سکے تو اپنی بیوی اور چھوٹی بچیوں کے علاوہ اپنے اہل و عیال میں سے کسی کے بال بھی نہ دیکھو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
حسن بصری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ عزیز و اقارب کی وہ خواتین جو غیر محرم ہیں بے شک وہ رشتہ دار ہوں لیکن ان کے بال بھی نہ دیکھے جائیں تاکہ فتنے میں مبتلا ہونے سے بچا جاسکے۔ البتہ اگر چھوٹی بچی ہو تو الگ بات ہے۔ یا اس سے مقصود یہ ہے کہ جوان بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ننگے سر نہ دیکھا جائے۔
حسن بصری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ عزیز و اقارب کی وہ خواتین جو غیر محرم ہیں بے شک وہ رشتہ دار ہوں لیکن ان کے بال بھی نہ دیکھے جائیں تاکہ فتنے میں مبتلا ہونے سے بچا جاسکے۔ البتہ اگر چھوٹی بچی ہو تو الگ بات ہے۔ یا اس سے مقصود یہ ہے کہ جوان بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ننگے سر نہ دیکھا جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 366 سے ماخوذ ہے۔