الادب المفرد
كتاب الصغير— كتاب الصغير
بَابُ قُبْلَةِ الرَّجُلِ الْجَارِيَةَ الصَّغِيرَةَ باب: چھوٹی بچی کا بوسہ لینا
حدیث نمبر: 365
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ يُقَبِّلُ زَيْنَبَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَهِيَ ابْنَةُ سَنَتَيْنِ أَوْ نَحْوَهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
بکیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ زینب بنت عمر بن ابی سلمہ کا بوسہ لیتے تھے جبکہ وہ تقریباً دو سال کی تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کا شمار صغار صحابہ میں ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کا چھوٹی بچی کو بوسہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر شہوت اور فتنے کا خدشہ نہ ہو تو چھوٹے بچوں کو بوسہ دیا جاسکتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کا شمار صغار صحابہ میں ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کا چھوٹی بچی کو بوسہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر شہوت اور فتنے کا خدشہ نہ ہو تو چھوٹے بچوں کو بوسہ دیا جاسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 365 سے ماخوذ ہے۔