حدیث نمبر: 364
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ قَالَ‏:‏ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدُعِينَا إِلَى طَعَامٍ فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي الطَّرِيقِ، فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ، ثُمَّ بَسَطَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَمُرُّ مَرَّةً هَا هُنَا وَمَرَّةً هَا هُنَا، يُضَاحِكُهُ حَتَّى أَخَذَهُ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ فِي ذَقْنِهِ وَالأُخْرَى فِي رَأْسِهِ، ثُمَّ اعْتَنَقَهُ فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، سَبِطَانِ مِنَ الأَسْبَاطِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھانے کی دعوت پر باہر نکلے تو راستے میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کھیل رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے لوگوں سے آگے بڑھے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا دیا۔ بچے نے ادھر ادھر بھاگنا شروع کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ ہنسی کرتے رہے یہاں تک کہ اس کو پکڑ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرا اس کے سر پر رکھا اور اسے گلے لگا لیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔ حسین ہمارے بچوں میں سے ایک بچہ ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الصغير / حدیث: 364
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه الترمذي ، كتاب المناقب ، باب حلمه و وضعه صلى الله عليه وسلم الحسن و الحسين بين يديه : 3775 و ابن ماجه : 144 - أخرجه المصنف فى التاريخ الكبير : 414/8 - انظر الصحيحة : 1227»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کو ہنسانا اور ان کے ساتھ کھیلنا جائز بلکہ مسنون ہے۔ اسی طرح پیار و محبت سے ان کا بوسہ لینا اور انہیں گلے لگانا بھی جائز ہے۔ یہ مروت کے خلاف نہیں ہے بلکہ حسن اخلاق کی دلیل ہے۔
(۲) اس حدیث سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی فضیلت معلوم ہوئی کہ ان سے محبت کرنا اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ یاد رہے کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کے نقش قدم پر چلتا ہے، اپنی شکل و صورت اس جیسی بناتا ہے، اپنا عقیدہ اس جیسا کرتا ہے اور اعمال میں بھی اس کی پیروی کرتا ہے۔ محض زبانی دعویٰ کرکے ان کے طرز زندگی کے مخالف زندگی گزارنے والا محب نہیں دھوکے باز اور شعبدہ باز ہے۔
(۳) سبط من الاسباط کے کئی معانی اور مفہوم بیان کیے گئے ہیں۔ ایک تو وہ ہے جو ہم نے ترجمہ میں ذکر کر دیا ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حسین کی نسل کو بڑھائے گا اور بہت زیادہ مخلوق اس کی نسل میں سے ہوگی۔ اور واقعتا ایسا ہوا بھی ہے۔ بیٹی کی اولاد کو بھی سبط کہا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 364 سے ماخوذ ہے۔