حدیث نمبر: 362
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالزَّهْوِ قَالَ‏:‏ ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَمُدِّنَا، وَصَاعِنَا، بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ“، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَصْغَرَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْوِلْدَانِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب نیا پھل لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا فرماتے: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَفِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ» ”اے اللہ! ہمارے مدینہ طیبہ اور ہمارے مد اور صاع میں برکت در برکت فرما۔“ پھر وہاں موجود بچوں میں سے سب سے چھوٹے بچے کو دے دیتے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الصغير / حدیث: 362
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب الحج : 1373 و الترمذي : 3454 و ابن ماجه : 3329»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)زہو، اس تر کھجور کو کہتے ہیں جس کا رنگ بدلنا شروع ہوا ہو، پھر اس کا اطلاق پہلے اور نئے پھل پر بھی ہوتا ہے۔
(۲) جب کوئی پھل شروع ہوتا تو لوگ پہلا پھل توڑ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے تاکہ آپ برکت کی دعا کریں، نیز اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی ہدیہ وغیرہ لائے تو لانے والے کے لیے دعا کرنا مسنون ہے۔
(۳) اس سے مدینہ طیبہ کی فضیلت اور آپ کی اس سے محبت کا بھی پتا چلتا ہے کہ آپ مدینہ طیبہ سے کس قدر محبت کرتے تھے۔ آپ کی اس دعا کا نتیجہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں آج بھی دیگر شہروں کی نسبت مال میں برکت ہے۔
(۴) علماء کو لوگوں کے اجتماعی معاملات میں شرکت کرنی چاہیے اور ان کی خیر و برکت کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
(۵) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و عقیدت بھی قابل تعریف ہے کہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی ہر کام میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقدم رکھتے تھے۔
(۶) انسان جب کوئی نیا پھل دیکھتا ہے تو اس کا کھانے کو جی چاہتا ہے لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایثار کرتے ہوئے بچوں کو ترجیح دیتے کیونکہ وہ اس کے زیادہ حریص ہوتے ہیں۔ یہ آپ کی ان پر کمال شفقت کی دلیل ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 362 سے ماخوذ ہے۔