الادب المفرد
كتاب الزيارة— كتاب الزيارة
بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ باب: جس کی زیارت کے لیے جائے اس کے پاس کھانا کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 348
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ: جَاءَ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ إِلَى أَبِي الْعَالِيَةِ، وَعَلَيْهِ ثِيَابُ صُوفٍ، فَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: إِنَّمَا هَذِهِ ثِيَابُ الرُّهْبَانِ، إِنْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا تَزَاوَرُوا تَجَمَّلُوا.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو خلدہ سے روایت ہے کہ ابو امیہ عبدالکریم ابو العالیہ کے پاس گئے تو انہوں نے اونی کپڑے پہن رکھے تھے۔ ابو العالیہ نے فرمایا: یہ تو راہبوں کا لباس ہے۔ مسلمانوں کا تو یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پاس جاتے تو بن سنور کر جاتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سادگی اچھی چیز ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان اچھا اور صاف ستھرا لباس نہ پہنے اور خوف ناک ہیئت بنائے رکھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے زاہد تھے لیکن آپ صاف ستھرا لباس پہنتے، خصوصاً جب مہمان وغیرہ آتے یا آپ کسی سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے تو عمدہ لباس پہنتے۔
سادگی اچھی چیز ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان اچھا اور صاف ستھرا لباس نہ پہنے اور خوف ناک ہیئت بنائے رکھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے زاہد تھے لیکن آپ صاف ستھرا لباس پہنتے، خصوصاً جب مہمان وغیرہ آتے یا آپ کسی سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے تو عمدہ لباس پہنتے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 348 سے ماخوذ ہے۔