حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ‏:‏ زَارَنَا سَلْمَانُ مِنَ الْمَدَائِنِ إِلَى الشَّامِ مَاشِيًا، وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ وَانْدَرْوَرْدُ، قَالَ‏:‏ يَعْنِي سَرَاوِيلَ مُشَمَّرَةً، قَالَ ابْنُ شَوْذَبٍ‏:‏ رُؤِيَ سَلْمَانُ وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ مَطْمُومُ الرَّأْسِ سَاقِطُ الأُذُنَيْنِ، يَعْنِي أَنَّهُ كَانَ أَرْفَشَ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ‏:‏ شَوَّهْتَ نَفْسَكَ، قَالَ‏:‏ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الاخِرَةِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ہم سے ملنے کے لیے مدائن سے پیدل شام آئے۔ وہ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے اور پاجامہ پہن رکھا تھا جس کے پانچے چڑھے ہوئے تھے۔ ابن شوذب نے کہا: سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو اس حال میں دیکھا گیا کہ انہوں نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی۔ سر منڈا ہوا تھا اور کان لٹکے ہوئے اور بڑے بڑے تھے۔ ان سے کہا گیا: آپ نے اپنا حلیہ بگاڑ رکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اصل اچھائی تو آخرت کی اچھائی ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الزيارة / حدیث: 346
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: بعض الحديث حسن
تخریج حدیث «بعض الحديث حسن : أخرجه أحمد فى الزهد : 842 و ابن أبى الدنيا فى التواضع : 149 و أبونعيم فى الحلية : 199/1 - الصحيحة : 3198»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)ابن شوذب کا قول معضل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ تاہم سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ خیر و بھلائی تو درحقیقت آخرت کی ہے۔ مرفوعاً صحیح سند سے ثابت ہے (الصحیحہ:۳۱۹۸)مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اگر زیب و زینت نہ بھی ہو تو کیا نقصان؟ اس کے لیے اتنی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ اصل فکر تو آخرت کی ہونی چاہیے۔ اگر وہاں انسان کو بھلائی مل گئی تو خیر ہی خیر ہے۔
(۲) اس سے ایک دوسرے کی ملاقات کے لیے سفر کرنا ثابت ہوا بشرطیکہ یہ تعلق اللہ تعالیٰ کی خاطر ہو یا صلہ رحمی کے لیے ہو۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 346 سے ماخوذ ہے۔