حدیث نمبر: 345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الشَّامِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِذَا عَادَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَوْ زَارَهُ، قَالَ اللَّهُ لَهُ‏:‏ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ، وَتَبَوَّأْتَ مَنْزِلاً فِي الْجَنَّةِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے بھائی کی تیمار داری کرتا ہے یا اس سے ملاقات کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرماتا ہے: توء بہت اچھے حال میں ہے، اور تیرا چلنا اچھا ہے، اور تو نے جنت میں گھر بنا لیا ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الزيارة / حدیث: 345
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه الترمذي ، كتاب البر و الصلة ، باب ماجاء فى زيارة الإخوان : 2008 و ابن ماجه : 1443 - انظر الصحيحة : 2632»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
کسی مریض کا حال معلوم کرنے کے لیے اس کی ملاقات کرنا عیادت کہلاتا ہے جبکہ صحت مند آدمی کی ملاقات کو زیارت سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان دونوں قسم کی ملاقات سے مقصود اگر اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول اور مسلمان کو خوش کرنا ہو تو یہ بہت فضیلت والا کام ہے جس کے بدلے میں جنت کی بشارت ہے۔ الغرض ایک دوسرے کی ملاقات کے لیے جانا مستحب اور باعث ثواب ہے۔ اسے حقیر خیال نہیں کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 345 سے ماخوذ ہے۔