الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ إِعْطَاءِ الشَّاعِرِ إِذَا خَافَ شَرَّهُ باب: شاعر کے شر سے بچنے کے لیے اسے کچھ دینا
حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيْدِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الْخُزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي نُجَيْدٌ، أَنَّ شَاعِرًا جَاءَ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَأَعْطَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: تُعْطِي شَاعِرًا؟ فَقَالَ: أُبْقِي عَلَى عِرْضِي.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نجید رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ کوئی شاعر سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے اسے عطیہ دیا۔ ان سے کہا گیا: آپ شاعر کو مال دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں اپنی عزت (بچانے) کی خاطر خرچ کرتا ہوں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 343 سے ماخوذ ہے۔