الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ يُحْثَى فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ باب: مدح سرائی کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 339
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ يُثْنِي عَلَى أَمِيرٍ مِنَ الأُمَرَاءِ، فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ يَحْثِي فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ، وَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثِيَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو معمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کسی امیر کی خوشامد کرنے لگا تو سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اس کے چہرے پر مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم خوشامد کرنے والوں کے منہوں میں مٹی ڈالیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)ایسی مدح جس سے ممدوح کے فتنے میں پڑنے کا خدشہ ہو، ممنوع ہے یا جس مدح سرائی کا مقصد مال بٹورنا ہو وہ بھی ناجائز اور حرام ہے، تاہم اگر کسی کی اچھائی کی اگر کوئی دل سے تعریف کرتا ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو رغبت دلانا ہے تو وہ جائز ہے۔
(۲) تعریف کرنے والے کے منہ پر مٹی ڈالنے کے علماء نے کئی ایک مفہوم ذکر کیے ہیں کہ اس سے مراد ناکامی و نامرادی ہے یعنی اسے کچھ نہ دیا جائے اور اس طرح سے ذلیل و رسوا کیا جائے لیکن راجح قول یہی ہے کہ حدیث کو اس کے ظاہر پر محمول کیا جائے اور اس کے ظاہری معنی مراد لیے جائیں جیسا کہ راوی حدیث حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے سمجھا ہے۔
(۱)ایسی مدح جس سے ممدوح کے فتنے میں پڑنے کا خدشہ ہو، ممنوع ہے یا جس مدح سرائی کا مقصد مال بٹورنا ہو وہ بھی ناجائز اور حرام ہے، تاہم اگر کسی کی اچھائی کی اگر کوئی دل سے تعریف کرتا ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو رغبت دلانا ہے تو وہ جائز ہے۔
(۲) تعریف کرنے والے کے منہ پر مٹی ڈالنے کے علماء نے کئی ایک مفہوم ذکر کیے ہیں کہ اس سے مراد ناکامی و نامرادی ہے یعنی اسے کچھ نہ دیا جائے اور اس طرح سے ذلیل و رسوا کیا جائے لیکن راجح قول یہی ہے کہ حدیث کو اس کے ظاہر پر محمول کیا جائے اور اس کے ظاہری معنی مراد لیے جائیں جیسا کہ راوی حدیث حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے سمجھا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 339 سے ماخوذ ہے۔