حدیث نمبر: 328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَذْكُرَ عُيُوبَ صَاحِبِكَ، فَاذْكُرْ عُيُوبَ نَفْسِكَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: جب تم اپنے ساتھی کے عیبوں کا تذکرہ کرنے لگو تو پہلے اپنے عیبوں پر ایک نظر ڈال لیا کرو۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 328
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أخرجه أحمد فى الزهد : 1046 و ابن أبى الدنيا فى الصمت : 193 و البيهقي فى شعب الإيمان : 6758»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس اثر کی سند ضعیف ہے، تاہم واقعاتی طور پر یہ بات درست ہے کہ انسان جب دوسروں کے عیب تلاش کرتا ہے تو اپنے عیبوں سے صرف نظر کرتا ہے اور انہیں بھول جاتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ((یُبْصِرُ أحَدُکُمُ الْقَذَاةَ فِي عَیْنِ أخِیهِ وَیَنْسَی الْجَذْعَ أوِ الْجَذْلَ في عَیْنِهِ مُعْتَرِضًا))(ابن حبان، حدیث:۱۸۴۸، السلسلة الصحیحة للألباني، حدیث:۳۳)
’’تمہیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا بھی نظر آجاتا ہے اور خود اپنی آنکھ میں پڑا شہتیر بھی نظر نہیں آتا۔‘‘
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 328 سے ماخوذ ہے۔