حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى حَكِيمِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ‏:‏ لاَ تَكُونُوا عُجُلاً مَذَايِيعَ بُذُرًا، فَإِنْ مِنْ وَرَائِكُمْ بَلاَءً مُبَرِّحًا مُمْلِحًا، وَأُمُورًا مُتَمَاحِلَةً رُدُحًا‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: تم جلد باز، باتوں کو پھیلانے والے اور راز فاش کرنے والے نہ بنو کیونکہ تمہارے بعد مصیبت میں ڈالنے والی آزمائش ہو گی اور فتنوں کا ایسا طویل دور ہو گا جو انسان کو دبا کر رکھ دے گا۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 327
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه المزي فى تهذيب الكمال : 336/22 و رواه العقيلي فى الضعفاء مختصرًا : 13/4 ، قلت : و رواه ابن المبارك : 1438 و أبوداؤد فى الزهد : 146 ، عن ابن مسعود»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ فتنے انہی چھوٹی چھوٹی باتوں سے شروع ہوتے ہیں کہ انسان کوئی بات سنتا ہے تو اس کو پھیلانے میں جلد بازی سے کام لیتا ہے اور جس کے بارے میں کہی جا رہی ہوتی ہے وہ جلد بازی میں اپنا رد عمل ظاہر کرتا ہے اور پھر لوگ ایک دوسرے کے عیبوں کی ٹوہ میں لگ جاتے ہیں اور یوں بغض و عناد سے معاشرہ جہنم کی تصویر بن جاتی ہے۔ اس لیے تمہیں اس سے باز رہنا چاہیے اور ان فتنوں کی ابتدا کرنے والے نہیں بننا چاہیے۔ پھر انسان جب اس طرح کی معاشرتی جنگ میں الجھ جاتا ہے تو اس کی ساری صلاحیتیں ادھر ہی صرف ہو جاتی ہیں اور ان مشکلات سے نکلنا محال ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 327 سے ماخوذ ہے۔