الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَنْ سَمِعَ بِفَاحِشَةٍ فَأَفْشَاهَا باب: بے حیائی کی بات سن کر پھیلانے کی مذمت
حدیث نمبر: 326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ كَانَ يَرَى النَّكَالَ عَلَى مَنْ أَشَاعَ الزِّنَا، يَقُولُ: أَشَاعَ الْفَاحِشَةَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے، ان کا موقف تھا کہ زنا کی تشہیر کرنے والے کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ وہ کہتے کہ ایسا شخص فحاشی پھیلاتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ اسے ایسی سزا دی جائے کہ دوسرا کوئی شخص اس کی جرأت نہ کرے کیونکہ جب ایسے واقعات کی عام تشہیر ہو تو لوگ گناہ پر جرأت مند ہو جاتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اسے ایسی سزا دی جائے کہ دوسرا کوئی شخص اس کی جرأت نہ کرے کیونکہ جب ایسے واقعات کی عام تشہیر ہو تو لوگ گناہ پر جرأت مند ہو جاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 326 سے ماخوذ ہے۔