الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَنْ سَمِعَ بِفَاحِشَةٍ فَأَفْشَاهَا باب: بے حیائی کی بات سن کر پھیلانے کی مذمت
حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: مَنْ سَمِعَ بِفَاحِشَةٍ فَأَفْشَاهَا، فَهُوَ فِيهَا كَالَّذِي أَبْدَاهَا.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
شبل بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ کہا جاتا تھا: جس نے بے حیائی کی بات سنی، پھر اس کو پھیلایا وہ ایسے ہے جیسے وہ اس برائی کو ظاہر کرنے والا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
برائی کی بات پھیلانا برائی کرنے سے زیادہ بڑا ہے کیونکہ برائی کرنے والا ممکن ہے توبہ کرلے لیکن اگر وہ پھیل جائے تو اس کے برے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ اس لیے ایسی مجالس سے گریز کرنا چاہیے جن میں سکینڈل ہی موضوع بحث ہوتے ہیں۔
برائی کی بات پھیلانا برائی کرنے سے زیادہ بڑا ہے کیونکہ برائی کرنے والا ممکن ہے توبہ کرلے لیکن اگر وہ پھیل جائے تو اس کے برے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ اس لیے ایسی مجالس سے گریز کرنا چاہیے جن میں سکینڈل ہی موضوع بحث ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 325 سے ماخوذ ہے۔