حدیث نمبر: 318
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: مَا تَلاَعَنَ قَوْمٌ قَطُّ إِلاَّ حُقَّ عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جو لوگ ایک دوسرے پر لعنت کرتے تو ان پر لعنت ضرور واجب ہو جاتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
جب کوئی شخص لعنت کرتا ہے تو اس کی لعنت آسمانوں کی طرف جاتی ہے تو اسے واپس بھیجا جاتا ہے تو وہ اس شخص پر جاتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہوتی ہے۔ اگر وہ لعنت کا مستحق ہو تو اس پر واقع ہو جاتی ہے، بصورت دیگر وہ لعنت کرنے والے پر پڑ جاتی ہے۔ اس لیے جو لوگ ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی ضرور اس کا اہل قرار پاتا ہے۔
جب کوئی شخص لعنت کرتا ہے تو اس کی لعنت آسمانوں کی طرف جاتی ہے تو اسے واپس بھیجا جاتا ہے تو وہ اس شخص پر جاتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہوتی ہے۔ اگر وہ لعنت کا مستحق ہو تو اس پر واقع ہو جاتی ہے، بصورت دیگر وہ لعنت کرنے والے پر پڑ جاتی ہے۔ اس لیے جو لوگ ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی ضرور اس کا اہل قرار پاتا ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 318 سے ماخوذ ہے۔