حدیث نمبر: 310
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُبَشِّرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ، وَلاَ الصَّيَّاحَ فِي الاسْوَاقِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بےشک اللہ تعالیٰ فحش گو، فحش گوئی اختیار کرنے والے، اور بازاروں میں چیخنے والے کو پسند نہیں کرتا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، یعنی اس سیاق سے صحیح نہیں ہے، تاہم دونوں جملے مختلف صحیح احادیث میں وارد ہیں جس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں طرح کے لوگ اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ہیں۔ پہلا حصہ اس طرح مروی ہے:اِن اللّٰہ یبغض الفاحش والمتفحش ’’اللہ تعالیٰ فحش گو اور فحش گوئی اختیار کرنے والے سے بغض رکھتا ہے۔‘‘ (مسند احمد:۲؍۱۶۲)
جبکہ دوسرا حصہ اس طرح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إنَّ اللّٰهُ یُبْغِضُ کُلَّ جَعْظَرِیٍّ جَواظٍ، سَخّابٍ في الْأسْوَاقِ، جِیفَةٌ بِاللَّیْلِ حِمَارٌ بِالنَّهَارِ، عَالِمٌ بِأمْرِ الدُّنْیَا، جَاهِلٌ بِأمْرِ الْأخِرَةِ۔))
’’اللہ تعالیٰ ہر بد مزاج متکبر، بخیل، بازاروں میں چیخ و پکار کرنے والے سے بغض رکھتا ہے جو رات کو مردار بن کر پڑا رہتا ہے اور دن کو گدھے کی طرح کام کرتا ہے۔ دنیا کے سارے معاملات کا ماہر اور آخرت کے معاملات سے بالکل جاہل ہو۔‘‘ (الصحیحة للألباني، حدیث:۱۹۵)
اس روایت کی سند ضعیف ہے، یعنی اس سیاق سے صحیح نہیں ہے، تاہم دونوں جملے مختلف صحیح احادیث میں وارد ہیں جس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں طرح کے لوگ اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ہیں۔ پہلا حصہ اس طرح مروی ہے:اِن اللّٰہ یبغض الفاحش والمتفحش ’’اللہ تعالیٰ فحش گو اور فحش گوئی اختیار کرنے والے سے بغض رکھتا ہے۔‘‘ (مسند احمد:۲؍۱۶۲)
جبکہ دوسرا حصہ اس طرح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إنَّ اللّٰهُ یُبْغِضُ کُلَّ جَعْظَرِیٍّ جَواظٍ، سَخّابٍ في الْأسْوَاقِ، جِیفَةٌ بِاللَّیْلِ حِمَارٌ بِالنَّهَارِ، عَالِمٌ بِأمْرِ الدُّنْیَا، جَاهِلٌ بِأمْرِ الْأخِرَةِ۔))
’’اللہ تعالیٰ ہر بد مزاج متکبر، بخیل، بازاروں میں چیخ و پکار کرنے والے سے بغض رکھتا ہے جو رات کو مردار بن کر پڑا رہتا ہے اور دن کو گدھے کی طرح کام کرتا ہے۔ دنیا کے سارے معاملات کا ماہر اور آخرت کے معاملات سے بالکل جاہل ہو۔‘‘ (الصحیحة للألباني، حدیث:۱۹۵)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 310 سے ماخوذ ہے۔