حدیث نمبر: 31
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ طَيْسَلَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: بُكَاءُ الْوَالِدَيْنِ مِنَ الْعُقُوقِ وَالْكَبَائِرِ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: والدین کو رلانا عقوق اور کبائر میں سے ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)اس کا مفہوم یہ ہے کہ اولاد اگر اپنے کسی فعل کی وجہ سے والدین کو ایذا پہنچاتی ہے اور وہ اس پر روتے ہیں تو ایسا کام نافرمانی اور کبیرہ گناہ ہوگا۔
(۲) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ اثر حدیث ۸ میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔
(۳) والدین کو ناراض کرنا اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنا ہے۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تو یہاں تک مروی ہے کہ اگر کوئی شخص والدین کو ناراض کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس شخص پر ناراض رہتا ہے حتی کہ وہ والدین کو راضی کرلے۔ کسی نے کہا: خواہ والدین ظلم کر رہے ہوں تب بھی؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں! خواہ وہ ظلم ہی کر رہے ہوں۔ (نظرة النعیم بحوالہ مشکاة: ۱۰؍۵۰۱۶)
(۴) والدین کو رلانا اتنا بڑا جرم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جہاد پر جانے سے روک دیا تھا جس نے اپنے والدین کو رلایا تھا اور اسے فرمایا: جاؤ پہلے انہیں ہنساؤ جس طرح تونے ان کو رلایا ہے۔(سنن ابن ماجة، حدیث: ۲۷۸۲)
(۱)اس کا مفہوم یہ ہے کہ اولاد اگر اپنے کسی فعل کی وجہ سے والدین کو ایذا پہنچاتی ہے اور وہ اس پر روتے ہیں تو ایسا کام نافرمانی اور کبیرہ گناہ ہوگا۔
(۲) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ اثر حدیث ۸ میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔
(۳) والدین کو ناراض کرنا اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنا ہے۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تو یہاں تک مروی ہے کہ اگر کوئی شخص والدین کو ناراض کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس شخص پر ناراض رہتا ہے حتی کہ وہ والدین کو راضی کرلے۔ کسی نے کہا: خواہ والدین ظلم کر رہے ہوں تب بھی؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں! خواہ وہ ظلم ہی کر رہے ہوں۔ (نظرة النعیم بحوالہ مشکاة: ۱۰؍۵۰۱۶)
(۴) والدین کو رلانا اتنا بڑا جرم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جہاد پر جانے سے روک دیا تھا جس نے اپنے والدین کو رلایا تھا اور اسے فرمایا: جاؤ پہلے انہیں ہنساؤ جس طرح تونے ان کو رلایا ہے۔(سنن ابن ماجة، حدیث: ۲۷۸۲)
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 31 سے ماخوذ ہے۔