الادب المفرد
كتاب— كتاب
اللہ تعالیٰ سے اچھے اخلاق کی دعا کرنے کا بیان باب: اللہ تعالیٰ سے اچھے اخلاق کی دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ، وَالْعِفَّةَ، وَالأَمَانَةَ، وَحُسْنَ الْخُلُقِ، وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ وَالْعَفَافَ وَالْأَمَانَةَ وَحُسْنَ الْخُلُقِ وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے صحت کا سوال کرتا ہوں، پاک دامنی، امانت اور حسنِ اخلاق کی التجا کرتا ہوں، اور تقدیر پر راضی رہنے کا سوالی ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم ان تمام امور کا سوال یا فضیلت دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، تاہم ان تمام امور کا سوال یا فضیلت دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 307 سے ماخوذ ہے۔