حدیث نمبر: 303
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ‏:‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاسَ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ يَقُولُ‏:‏ ”لَنْ تُرَاعُوا، لَنْ تُرَاعُوا“، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ، مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، فَقَالَ‏:‏ ”لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت، سب لوگوں سے زیادہ سخی اور بہادر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ خوفزدہ ہوئے تو لوگ آواز کی جانب چلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے سے آتا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے پہلے اکیلے ہی اس جانب چلے گئے جس طرف سے آواز آئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”ڈرنے کی کوئی بات نہیں، خوفزدہ مت ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر بغیر زین کے سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں تلوار تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس گھوڑے کو سمندر (کی طرح تیز رفتار) پایا ہے۔“ یا ”وہ تو یقیناً سمندر ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 303
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الأدب ، باب حسن الخلق و السخاء ............ : 6033 و مسلم : 2307 و الترمذي : 1687 و ابن ماجه : 2772»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جملہ خصال حمیدہ کے مالک تھے۔ حسن و جمال، جود و سخا اور بہادری ہر چیز میں آپ کو کمال حاصل تھا اور جس میں یہ صفات حمیدہ ہوں وہ طیب نفس کا مالک ہوگا۔
(۲) خطرناک آواز سن کرآپ کا اکیلے ہی اس طرف چلے جانا آپ کی کمال شجاعت و بہادری کی دلیل ہے۔ ورنہ ایسے مواقع پر لوگ حتی بڑے بڑے بہادر بھی گھبرا جاتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ نہایت بیدار مغز اور حالات و ظروف سے خبردار رہتے تھے اور کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔
(۳) اس سے معلوم ہوا کہ ہنگامی صورت حال میں جو اسلحہ یا سواری ہاتھ آئے اس کا استعمال جائز ہے۔
(۴) سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا یہ گھوڑا سستی میں مشہور تھا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اس کی سستی جاتی رہی اور وہ تمام گھوڑوں سے تیز ہوگیا حتی کہ بعد میں کوئی گھوڑا اس کا مقابلہ نہیں کرتا تھا۔
(۵) اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم معجزے کا بیان ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 303 سے ماخوذ ہے۔