حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي شُمَيْلَةَ الأَنْصَارِيِّ الْقُبَائِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِحْصَنٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مَنْ أَصْبَحَ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ طَعَامُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبیداللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح اس حال میں کرے کہ وہ اپنے اور اہل و عیال کے بارے میں بے خوف ہو، جسمانی طور پر عافیت میں ہو، ایک دن کا کھانا بھی اس کے پاس ہو تو وہ ایسے ہے جیسے وہ ساری دنیا کا مالک ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 300
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : أخرجه البخاري فى التاريخ الكبير : 372/5 ، بالإسناد نفسه و الترمذي : 2346 و ابن ماجه : 4141 - الصحيحة : 174»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)انسان کی ساری محنت اور کوشش کا محور روٹی کپڑا اور مکان ہے اور مزید یہ ہے کہ اسے کسی قسم کا خوف نہ ہو۔ کوئی شخص ایک وقت میں دو ٹائم کا کھانا نہیں کھاسکتا، ایک سے زیادہ جوڑا زیب تن نہیں کرسکتا اور ایک ہی چارپائی یا بیڈ پر سو سکتا ہے۔ یہ انسان کی کل کائنات ہے لیکن وہ نہ جانے کیا کچھ کرتا ہے اور لامتناہی زندگی سے سرمو انحراف کرتا رہتا ہے حالانکہ ان کٹھن مراحل سے گزرنے کے لیے زیادہ سازو سامان کی ضرورت ہے۔
(۲) جب بنیادی ضرورتیں پوری ہوں اور انسان مصائب و آلام سے بھی بے خطر ہو تو اسے اللہ کا شکر بجا لانا چاہے کیونکہ مالی اور جسمانی عافیت کے ساتھ ضرورت پوری ہو جائے تو دنیا کی تمام نعمتیں انسان کو حاصل ہوگئیں۔ کیونکہ بہت مال والا انسان بھی ایک روز میں اتنا کچھ ہی استعمال کرتا ہے۔
(۳) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زہد و قناعت کا درس دیا ہے کہ اگر بنیادی ضرورت پوری ہو تو انسان کو اللہ کا شکر بجا لانا چاہیے۔ خوب سے خوب تر کا کوئی کنارہ نہیں اور ابن آدم کے پیٹ کو قبر کی مٹی ہی بھرتی ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 300 سے ماخوذ ہے۔